13 اکتوبر 2026 - 16:14
مقتدیٰ صدر کا باکو کے حکام کو انتباہ؛ حجاب پر پابندی داعش جیسی انتہا پسندی ہے

عراق کی تحریکِ صدر کے سربراہ مقتدیٰ صدر نے آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے فیصلے کو ’’سیکولر انتہا پسندی‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات ملک میں انتہا پسندی کو مزید ہوا دیں گے۔ انہوں نے باکو کے حکام پر زور دیا کہ وہ دوسرے ممالک کے تجربات سے سبق سیکھیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق کی تحریکِ صدر کے سربراہ مقتدیٰ صدر نے آذربائیجان کے اسکولوں میں اسلامی شعائر پر پابندی کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ’’سیکولر انتہا پسندی‘‘ قرار دیا اور خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات ملک میں انتہا پسندی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

مقتدیٰ صدر نے ایک بیان میں آذربائیجان کے حکام کی جانب سے حجاب پر پابندی کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں اس مسلمان ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا، لیکن امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری ادا کرنے والوں کی حیثیت سے ہم پر لازم ہے کہ اللہ کے حضور اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے تنبیہ کریں، اپنی رائے بیان کریں اور نصیحت کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے فیصلے سیکولر انتہا پسندی کے مترادف ہیں، جو داعش کی انتہا پسندی جیسی ہے۔ تحریکِ صدر کے سربراہ نے خبردار کیا کہ یہ فیصلے آپ کے ملک میں انتہا پسندی کو جنم دیں گے، اسے فروغ دیں گے اور مزید بھڑکائیں گے، حالانکہ ہماری امید ہے کہ آپ کا ملک اعتدال اور میانہ روی کی مثال بنے۔

مقتدیٰ صدر نے سیکولر حکام کی جانب سے سیکولرازم کے تصور کی تشریح پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ سیکولر افراد سمجھتے ہیں کہ سیکولرازم کا مطلب اسلام کے فروغ اور اسلامی اصولوں کے مطابق قانون سازی کی مخالفت کرنا ہے، حالانکہ سیکولرازم کی بنیاد آزادی اور ذاتی آزادیوں میں مداخلت نہ کرنے پر ہونی چاہیے۔

انہوں نے اس تصور کو بھی مسترد کیا کہ حجاب پر پابندی سے معاشرہ سیکولر ہو جائے گا اور خواتین لباس اور حجاب کی پابندیوں سے آزاد ہو جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ حجاب پر پابندی معاشرے کو سیکولر بنانے اور خواتین کو لباس اور حجاب کی پابندیوں سے آزاد کرنے کا راستہ کھول دے گی تو آپ غلطی پر ہیں۔

مقتدیٰ صدر نے مزید کہا کہ حجاب پر پابندی کا ایک نتیجہ یہ ہوگا کہ باحیا خواتین حجاب اختیار کرنے کی طرف مزید مائل ہوں گی، جبکہ اس فیصلے کی پیروی کرنے والی خواتین دنیاوی خواہشات اور لذتوں کی اسیر ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق، اس فیصلے سے آپ کے ملک پر مغرب اور اسرائیل کا تسلط بھی بڑھے گا۔

تحریکِ صدر کے سربراہ نے اس اقدام کو ایک ’’سیاسی فیصلہ‘‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اس کا مقصد ’’معتدل اسلام کو پس منظر میں دھکیلنا اور ریاست پر سیکولر عناصر کی گرفت مضبوط کرنا ہے۔‘‘

دوسرے ممالک کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مقصد کا حصول محض ایک وہم ہے۔ ان کے مطابق، تیونس سمیت بعض ممالک نے ماضی میں حجاب، روزے اور اس طرح کی دیگر مذہبی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کرکے یہی راستہ اختیار کیا۔ ترکی نے بھی اس حوالے سے اقدامات کیے، لیکن باحجاب خواتین کی تعداد میں اضافے کے بعد ان پابندیوں کو ختم کر دیا۔

مقتدیٰ صدر نے آخر میں دوسرے ممالک میں پابندیوں کے بعد باحجاب خواتین کی تعداد میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے آذربائیجان کے حکام پر زور دیا کہ وہ ان تجربات سے سبق سیکھیں اور ایسے فیصلوں کے نتائج کو نظر انداز نہ کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha